حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیتؑ عالمی اسمبلی نے اسلام آباد پاکستان میں مسجد خدیجہ الکبریٰؑ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی وحدت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
اہل بیتؑ عالمی اسمبلی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے اس حملے کو انسانیت سوز جرم قرار دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 200 شیعہ نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ 17 شعبان 1447 ہجری قمری کو نماز جمعہ کے دوران پیش آیا، جب نمازی پرامن ماحول میں عبادت میں مصروف تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ عبادت گزاروں کو نشانہ بنانا دہشت گرد تنظیم داعش کی وحشیانہ اور غیر انسانی ذہنیت کا واضح ثبوت ہے۔ یہ حملہ منظم تشدد، نفرت اور بدامنی پھیلانے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جس کا مقصد معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔
اس عالمی اسمبلی نے اس المناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بے گناہ شہریوں کے قتل، سیاسی و سماجی عدم استحکام اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے مظلوم شیعہ ہمیشہ دیگر اسلامی مسالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور وحدت کے داعی رہے ہیں، اس کے باوجود بار بار انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس لیے حکومت پاکستان، علما، دانشوروں اور عوام کو مل کر شہریوں کے تحفظ، اسلامی وحدت کے فروغ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
اہل بیتؑ عالمی اسمبلی نے عالمی اداروں اور تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ادا کریں اور عالمی طاقتوں و صہیونی حمایت یافتہ عناصر کے خلاف عملی اقدامات کریں۔
آخر میں بیان میں حکومت و عوام پاکستان، علما اور شہدا و زخمیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے لیے بلندیٔ درجات اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی گئی۔









آپ کا تبصرہ